اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ کشمیر میں جتنے حالات خراب ہوئے وہ مودی حکومت کے دوران ہوئے، پاکستان اور ہندوستان کے درمیان جتنی کشیدگی اور تنازعات میں اضافہ ہوا ہے، وہ بھی مودی حکومت کے دوران ہی ہوا۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی کہا جائے گا کہ ہند کی خارجہ پالیسی کی مذمت جتنی کی گئی وہ کانگریس کے دور حکومت میں بی جے پی نے کی، یہاں تک کہ بی جے پی نے بحیثیت اپوزیشن جماعت ہندوستان کے سابق وزیر اعظم منموہنسنگھ کو ایک ڈرپوک وزیر اعظم قرار دیا تھا جبکہ مودی حکومت مکمل طور پر پاکستان کے ساتھ سیاسی تعلقات استوار کرنے میں بری طرح ناکام رہی اور جتنے سیاسی حالات و معاملات مودی دور حکومت میں ہندوستان اور پاکستان کے درمیان خراب ہ ہوئے، کانگریس کے دور حکومت میں نہیں ہوئے۔ اس روشنی میں یہ کہا جائے گا کہ پاکستان کے ساتھ مسئلہ کشمیر کے حل کے سلسلے میں ہند نے کوئی موثر قدم نہیں اُٹھایا اور یہ ہی وجہ رہی کہ کشمیر میں حالات بد سے بدتر ہوگئے۔
لیکن اب پاکستان اگر اپنی سیاسی پالیسی میں تبدیلی لاتا ہے اورتبدیلی نرمی کی صورت میں ہوئی تو یہ تبدیلی مودی حکومت کی وجہ سے نہیں ہوئی بلکہ امریکہ اور ہندوستان کے درمیان جو معاہدات ہوئے ہیں اور دونوں ممالک میں قربت پیدا ہوتی تو پاکستان امریکہ کی وجہ سے نرمی لائے گا۔ کیونکہ پاکستان یہ سمجھ رہا ہے کہ امریکہ سے اب دوری ہورہی ہے اور یہ اس کے لیے ہر طرح مضر ثابت ہوگی۔ اس لیے پاکستان ہند کے تئیں نرم پڑ جائے گا۔ پاکستان بلوچستان کے بارے میں بھی سوچ رہا ہے، کشمیر کے بارے میں سوچ رہا ہے اور مقبوضہ کشمیر کے بارے میں سوچ رہا ہے اور سب سے زیادہ اپنے بارے میں اور امریکہ کے بارے میں سوچ رہا ہے۔ ہندوستان کے ساتھ پاکستان کے سیاسی تعلقات میں تلخی ہے اور یہ تلخی کب ختم ہوگی کہا نہیں جاسکتا؛ لیکن یہ ضرور کہا جائے گا کہ ہندوستان کے وزیر اعظم نے پاکستان کے لیے سخت رویہ اختیار کیا ہے جو زبانی طور پر ہی محدود ہے۔ اس کے علاوہ عملی صورت میں ابھی تک کچھ نظر نہیں آیا ہے۔ حکومت ہند نے مسئلہ کشمیر کے حل سے متعلق جو قدم اُٹھایا ہے وہ اس وقت تک حل نہیں ہوسکتا جب تک مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے پاکستان سے بات چیت نہ کی جائے۔